🔔 Stay Alert

صومالی قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانی عملے کا اغوا: گورنر سندھ کی اہل خانہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

کراچی: صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا ہونے والے 11 پاکستانی بحری اہلکاروں کی باحفاظت واپسی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

واقعے کا پس منظر: سمندری قزاقی کی تازہ لہر

گزشتہ ہفتے صومالیہ کے قریب مسلح قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس جہاز پر 11 پاکستانی عملے کے ارکان اور ایک انڈونیشیائی کپتان سوار تھے، جنہیں تاحال یرغمال بنایا ہوا ہے۔ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا، جس کی وجہ سے قانونی اور سفارتی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

گورنر سندھ کی پریس کانفرنس اور اہم نکات

گورنر ہاؤس میں متاثرہ خاندانوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید محمد نہال ہاشمی نے درج ذیل اہم اقدامات اور تفصیلات سے آگاہ کیا:

  • حکومتی عزم: وفاقی حکومت اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہے اور یرغمالیوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
  • بین الاقوامی رابطہ: پاکستان اس معاملے پر یورپی یونین (EU) اور دیگر عالمی بحری اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ آپریشنل اور سفارتی مدد حاصل کی جا سکے۔
  • رابطہ بحال ہے: گورنر نے انکشاف کیا کہ مغویوں کے ساتھ رابطہ برقرار ہے، جو کہ ان کی بحفاظت واپسی کی امیدوں کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔
  • صوبائی و وفاقی تعاون: سندھ حکومت اور وفاقی ادارے مل کر اس مشکل گھڑی میں خاندانوں کی مالی اور اخلاقی مدد کر رہے ہیں۔

سمندری حدود کی پیچیدگیاں

گورنر سندھ نے واضح کیا کہ چونکہ یہ اغوا پاکستان کی علاقائی حدود سے باہر ہوا ہے، اس لیے بین الاقوامی قوانین اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے۔ صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں قزاقوں کی سرگرمیاں ایک عالمی چیلنج ہیں، جس کے لیے کثیر القومی ٹاسک فورسز کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔

متاثرہ خاندانوں کے جذبات

ملاقات کے دوران مغویوں کے اہل خانہ نے حکومتی ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا:

“گورنر سندھ کی جانب سے فوری رابطہ اور وفاقی سطح پر آواز اٹھانے سے ہمیں یہ امید ملی ہے کہ ہمارے پیارے جلد ہمارے درمیان ہوں گے۔”

آئندہ کا لائحہ عمل

ذرائع کے مطابق، پاکستانی دفتر خارجہ اور متعلقہ ایجنسیاں انڈونیشی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے قزاقوں کے مطالبات (اگر کوئی ہوں) کا جائزہ لیا جائے اور کسی جانی نقصان کے بغیر عملے کو رہا کروایا جا سکے۔

WhatsApp Channel Button

Scroll to Top
“Your Phone Is Training Your Brain to Be Anxious (Here’s How)” “If Your Legs Tingle Like This at Night, Don’t Ignore It”